Friday, 18 October 2013

[​IMG]
[​IMG]
ایک نئی لڑی کے ساتھ حاضر ہوں ،رمضان المبارک کا خوبصورت موسم ہے ہر کوئی روزہ رکھنے حسب توفیق عبادت کرنے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگنے اور اللہ تعالی کو راضی کرنےمیں مشغول دکھائی دیتا ہے ایسے میں اسی حوالے سے تھوڑی بات چیت ہو جائے تو آپکو بتاناصرف یہ ہے کہ
وہ کون سی چیز ہے جو آپ کو رمضان المبارک میں سب سے زیادہ پریشان کرتی ہےیا تنگ کرتی ہے؟
روزہ میں بھوک، پیاس،کالج یا دفتر جانا، مہمانوں کا آجانا، گھر کے کام کاج، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، ناجائز منافع خوری، سڑکوں پہ بےہنگم ٹریفک یا کچھ بھی جسے آپ اس رمضان المبارک کے مہینےمیں سب سے زیادہ پریشان ہیں
[​IMG]
تو آئیے اور شروع ہو جائیے لکھنے میں اور شیئر کیجیئے ہم سے جس چیز یا بات سے آپ اس رمضان المبارک میں زیادہ پریشان ہیں ؟؟؟

[​IMG]

[​IMG][​IMG]
فضائل قربانی
قربانی ایک اہم عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو قربانی کا حکم دیا گیا۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ (تو تم اپنے رب کیلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو)
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا: ’’یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ پیارا نہیں۔ اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرتا ہے۔ لہذا اسے خوش دلی سے کرو‘‘ (ابودائود‘ ترمذی‘ ابن ماجہ)
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ یہ قربانیاں کیا ہیں۔ فرمایا تمہارے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔ عرض کی گئی یارسول اللہﷺ ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔ عرض کی اون کا کیا حکم ہے۔ فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے نیکی ہے (ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے (ابن ماجہ)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈھوں کی قربانی کیا کرتا ہوں۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ مدینہ میں دس سال مقیم رہے اس عرصہ میں آپ نے ہر سال قربانی کی۔
(مشکوٰۃ ترمذی)
قربانی کس پر واجب ہے
قربانی ہر مسلمان مرد ‘ عورت‘ عاقل‘ بالغ‘ مقیم پر واجب ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجت اصلیہ سے زائد ہو۔ یہ مال خواہ سونا‘ چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مالِ تجارت (شامی)
جس شخص پر قربانی واجب نہ تھی۔ مگر اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا تو اس پر قربانی واجب ہوگی(شامی)
قربانی کے دن
قربانی صرف تین دن کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرے دنوں میں قربانی نہیں۔ قربانی کے دن ذی الحجہ کی دسویں‘ گیارھویں اور بارہویں تاریخ ہے۔ ان میں جب چاہے قربانی کرسکتا ہے۔ البتہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔
قربانی کا وقت
جن شہروں‘ قصبوں میں نماز جمعہ و عیدین جائز ہے۔ وہاں نماز عید سے پہلے قربانی جائز نہیں۔
اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کردی تو اس کو دوبارہ کرنا لازم ہے۔ البتہ گائوں (جہاں جمعہ و عیدین کی نمازیں نہیں ہوتی) کے لوگ دسویں تاریخ کو صبح صادق کے بعد قربانی کرسکتے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے بہار شریعت۔
قربانی کے جانور
اونٹ پانچ سال کا‘ گائے بھینس دو سال کی بکرا‘ بکری ایک سال کی۔ اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں‘ زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ البتہ دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا بڑا ہوکہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ بکرا‘ دنبہ‘ بھیڑ کی قربانی ایک ہی شخص کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔ گائے‘ بھینس اور اونٹ‘ سات آدمیوں کی طرف سے ایک ہی کافی ہے۔ بشرطیکہ سب کی نیت ثواب کی ہو کسی کی نیت محض گوشت کی نہ ہو۔
قربانی کے چند اہم مسائل
(۱) خصی بکرے کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے (شامی)
(۲) اندھے‘ کانے‘ لنگڑے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ ایسا لاغر جانور جو قربانی کی جگہ تک اپنے پائوں سے چل کر نہ جاسکے اس کی قربانی بھی جائز نہیں (شامی)
(۳) جس جانور کا کان یا دم وغیرہ تہائی سے زیادہ کٹی ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔
(۴) جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں (شامی‘ درمختار) اسی طرح جس جانور کے کان پیدائشی طورپر بالکل نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں۔
(۵) اگر جانور صحیح تندرست خریدا تھا۔ بعد میں کوئی عیب پیدا ہوگیا تو اس صورت میں اگر خریدنے والا غنی صاحب نصاب نہیں تو اس کیلئے اس عیب دار جانور کی قربانی جائز ہے۔ اگر یہ شخص غنی صاحب نصاف ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس جانور کے بدلے دوسرے جانور کی قربانی کرے(درمختار)
(۶) ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے بال اپنے کسی کام کیلئے کاٹ لینا یا اس کا دودھ دوہنا مکروہ و ممنوع ہے۔ اگر قربانی کے جانور کی اون کاٹ لی یا دودھ دھو لیا تو اسے صدقہ کردے۔ اگر اجرت پر دیا ہے تو اجرت صدقہ کر دے (درمختار‘ رد المحتار)
(۷) قربانی کا جانور مر گیا تو غنی پر لازم ہے کہ دوسرے جانور کی قربانی کرے۔
قربانی کرنے کا مسنون طریقہ
قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔ اگر ذبح کرنا نہیں جانتا تو دوسرے سے ذبح کراسکتا ہے۔ مگر ذبح کے وقت وہاں خود بھی حاضر رہنا افضل ہے۔ قربانی کے جانور کو بائیں پہلو پر قبلہ رخ لٹائیں اور بِسْمِ اللّٰہِ اللہُ اَکْبَرُ پڑھتے ہوئے تیز چھری سے ذبح کردیں۔ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کریں۔ اور نہ ہی ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح کیا جائے۔
ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں:
اِنّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلذیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمَیْنَ۔
اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں: اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلُ مِنَّیْ کما تقبلت من حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَلِیْلکَ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلام
قربانی کا گوشت
جس جانور میں کئی حصہ دار ہوں اس کا گوشت برابر وزن کرکے تقسیم کیا جائے۔ اندازے سے تقسیم نہ کریں۔ قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے۔ دوسرے شخص غنی اور فقیر کو دے سکتا ہے۔ بلکہ اس میں سے کچھ کھالینا قربانی کرنے والے کیلئے مستحب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کیلئے اور ایک حصہ دوست احباب کے لئے اور ایک حصہ اپنے گھروالوں کیلئے۔ ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔ قربانی کا گوشت‘ قربانی کے جانور کی کھال‘ اس کی رسی وغیرہ کوئی چیز ذبح کرنے والے گوشت بنانے والے کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔ ذبح کرنے اور گوشت بنانے کی اجرت علیحدہ دینی چاہیے۔
قربانی کی کھال
قربانی کی کھال کی جائے نماز یا چمڑے کا ڈول بنوانا جائز ہے‘ اسے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے‘ لیکن اگر اس کو فروخت کیا تو اس کی قیمت اپنے خرچ میں لانا جائز نہیں بلکہ اس کا صدقہ کرنا واجب ہے۔
یتیم‘ فقیر‘ مسکین‘ بیوہ اور دینی مدارس کے نادار اور غریب طلباء ان کھالوں کا بہترین مصرف ہیں۔
تکبیراتِ تشریق
اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَا اِلہَ اِلَّا اللّٰہُ واَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَر وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی صبح سے لے کر تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز باجماعت کے بعد ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب اور تین مرتبہ مستحب ہے۔
عید کے مستحبات
(۱) صبح سویرے اٹھنا (۲) مسواک کرنا (۳) غسل کرنا (۴) اچھے کپڑے پہننا‘ نئے ہوں تو نئے ورنہ دھلے ہوئے پہنیں۔ (۵) خوشبو لگانا (۶) عید الضحیٰ کی نماز سے پہلے نہ کھانا مستحب ہے۔
اگر قربانی کا گوشت میسر ہو تو نماز عید کے بعد اس کا کھانا مستحب ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کی ضیافت ہے۔
(۶)اگر کچھ کھا لیا تب بھی حرج نہیں۔ جیسے لوگ عام طورپر چائے اور ناشتہ کرلیتے ہیں۔
(۷) نماز عید ادا کرنے کیلئے ایک راستے سے آنا اور دوسرے راستے سے جانا۔
(۸) عید گاہ جاتے وقت تکبیر بلند آواز سے کہنا۔
نماز عید ادا کرنے کا طریقہ
عید کی نماز ۲ رکعت واجب ہے
تکبیر تحریمہ کے بعد سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ (ثنا) پڑھیں پھر ہاتھ اٹھا کر تین تکبریں کہیں۔
تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ پھر امام قرأت کرے گا قرأت کے بعد حسبِ معمول رکوع و سجود کریں۔
پھر دوسری رکعت میں امام قرأت کرے گا۔ قرأت کے بعد تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر تکبیریں کہیں۔ چوتھی تکبیر ہاتھ اٹھائے بغیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں باقی نماز حسب معمول مکمل کریں۔
نماز عید کے بعد خطبہ سننا واجب ہے۔ وماعلینا الابلاغ!
میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا
(مصحفی)

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

(انشأ اللہ خان انشأ )

مصحفی اور انشأ اللہ خان انشا کی دو غزلیں جن میں یہ شعر مشترک ہے۔

یہ دم اس کے وقتِ رخصت بہ صد اضطراب الٹا
کہ بہ سوئے دل مژہ سے وہیں خونِ ناب الٹا

سرِ لوح اس کی صورت کہیں لکھ گیا تھا مانی
اسے دیکھ کہ نہ میں نے ورقِ کتاب الٹا

میں عجب یہ رسم دیکھی، مجھے روزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا

یہ الٹ گئی ہے قسمت کہ جو دل کسی کو دوں میں
وہ مرے ہی سر سے مارے اُسے کر خراب اُلٹا

یہ نقاب پوش ظالم کوئی زور ہے کہ جس نے
کیے خون سینکڑوں اور نہ ذرا نقاب الٹا

جو بوقتِ غسل اپنا وہ پھرا لے موج سے منہہ
تو پھراتے ہی منہہ اس کے لگے بہنے آب الٹا

میں لکھا ہے خط تو قاصد! پہ یہ ہو گا مجھ پہ احساں
انہیں پانو آئے گا تو جو لیے جواب الٹا

ترے آگے مہرِ تاباں ہے زمیں پہ سر بہ سجدہ
یہ ورق کا گنجفے کے نہیں آفتاب الٹا

نہیں جائے شکوہ اس سے ہمیں مصحفی ہمیشہ
یہ زمانے کا رہا ہے یوں ہی انقلاب الٹا

(غلام ہمدانی مصحفی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا
کہ پڑا ہے آج خُم میں قدحِ شراب الٹا

عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تُم سے
کبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب الٹا

چلے تھے حرم کو رہ میں، ہوئے اک صنم کے عاشق
نہ ہوا ثواب حاصل، یہ ملا عذاب الٹا

یہ شب گذشتہ دیکھا کہ وہ خفا سے کچھ ہیں گویا
کہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب الٹا

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

کھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا، مرے دل اجڑ گئے کو
وہ گنہہ تو کہہ دو جس سے یہ وہ خراب الٹا

غزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکے انشا
کہ ہوا نے خود بخود آ، ورقِ کتاب الٹا

(انشا اللہ خان انشا)